اللہ تعالیٰ نے انسان کو بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے، جن میں زبان ایک عظیم نعمت اور بہت بڑی امانت ہے۔ یہی زبان انسان کو عزت بھی دلاتی ہے اور اگر اس کا غلط استعمال کیا جائے تو دنیا و آخرت میں نقصان کا سبب بھی بن سکتی ہے۔ قرآنِ کریم اور احادیثِ مبارکہ ہمیں زبان کی حفاظت، سچ بولنے، غیبت، چغلی، جھوٹ، بہتان، گالی گلوچ اور فضول گفتگو سے بچنے کی بار بار تلقین کرتے ہیں۔

اس بیان میں ہم قرآن و سنت کی روشنی میں جانیں گے کہ ایک مومن کو اپنی زبان کی حفاظت کیوں کرنی چاہیے، کن باتوں سے اجتناب ضروری ہے، اور نرم، سچی اور خیرخواہی پر مبنی گفتگو کس طرح اللہ تعالیٰ کی رضا اور جنت کے حصول کا ذریعہ بنتی ہے۔

نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
"جو شخص اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہو، اسے چاہیے کہ وہ بھلائی کی بات کرے یا خاموش رہے۔" (صحیح بخاری، صحیح مسلم)

آئیے! قرآن و حدیث کی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے اپنی زبان کو ہر اس بات سے محفوظ رکھیں جو اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا سبب بنے، اور اسے ذکرِ الٰہی، تلاوتِ قرآن، دعا اور خیر خواہی کے لیے استعمال کریں۔

اگر یہ ویڈیو آپ کے لیے مفید ثابت ہو تو اسے اپنے عزیزوں اور دوستوں کے ساتھ ضرور شیئر کریں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس اہم اسلامی تعلیم سے فائدہ اٹھا سکیں۔